Wednesday, July 13, 2022

خود شناسی/self -efficacy


 

self -efficacy/خود شناسی  

تحریر۔ کرن احمد( اٹک )

self -efficacy بھی کہتے ہیں ۔ (seif -efficacy basically
 someone believes it he or she has ability to do that particular taste ) خود شناسی کو خود احتسابی بھی کہا جا سکتا ہے ۔کسی بھی انسان کی اپنی قابلیت پر ایمان کی حد تک جو یقین کی کیفیت ہے جو انسان کی اپنی ذات پر ایمان،اعتماد اور یقین ہے اسکو خود شناسی کہہ سکتے ہیں ۔ حدیث مبارکہ ہے کہ: "جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا پس تحقیق اس نے اپنے رب کو پہچان لیا ۔" ایک اور جگہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اے اللہ مجھے اشیا کی ہیت نہیں ان کی فطرت کا علم عطا فرما۔" خود شناسی ہی آپ کو اللّٰہ تبارک و تعالیٰ اور کائنات کی ہر چیز سے شناسا کرتی ہے ۔اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کو لگن اور محنت سے کامیابی تک لانا بھی خود شناسی کی ایک صورت ہے ۔خود شناسی دو طرح کی ہوتی ہے ۔ 1) خود شناسی خود پر کامل یقین کا ہونا ۔اس کی مثال ایک شخص خود کو کامیاب کرنے اور کوئی مقام پانے کے لیے جستجو کرتا ہے اور آخر کار اس کی مستقل لگن اور محنت سے وہ یہ مقام حاصل کر لیتا ہے ۔ 2) خود شناسی کی کمی یا ہار جانے کا ڈر انسان کو محنت اور آگے بڑھنے سے روک دیتا ہے اور کوشش کرنے سے پہلے ہی وہ یہ سمجھ کر خود کو ناکام کر لیتا ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا اور اس کا خود کی ناکامی پر کامل یقین آخر کار اسے ناکامی سے دوچار کر دیتا ہے ۔اگر مجھے یہ یقین ہے کہ میں کر سکتی ہوں تو یقیناً میں کرلوں گی۔ اور اگر شروع میں میرے پاس مشکلات بہت بھی ہوں لیکن میرا ارادہ ، پختہ یقین اور میرا اپنا آپ مجھے اس مقام تک ضرور لے آئے گا جہاں میں جانا چاہتی ہوں ۔تمام معاملات میں خود شناسی کا ہونا بہت ضروری ہے ۔چاہیے آپ پڑھتے یا پڑھاتے ہوں یا اس کے علاؤہ آپ کا تعلق کسی اور شعبے سے ہو آپ کی مستقل مزاجی اور آپ کے مضبوط ارادے ہی خود شناسی ہے ۔ خود شناسی کو جاننے کے چار آسان طریقے ہیں ۔ 1)سب سے پہلے آپ اس بات کو تسلیم کریں کہ ہر شخص اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ جیسے فنگر پرنٹ ،آواز ،شکل وصورت اور قد وغیرہ ۔اس کے علاؤہ قابلیت اور ذہانت بھی ۔یہاں پر آپ ان تمام چیزوں کو قبول کر چکے ہیں تو آپ لوگوں کی نقل کرنا چھوڑ دیں گے ۔ 2)اپنی خوبیوں اور خامیوں کو جانے۔کوئی بھی شخص اپنی ذات میں مکمل کبھی نہیں ہوتا ۔جب آپ اپنے اندر ان باتوں کو جان لیتے ہیں تو آپ کے لئے آگے بڑھنا آسان ہو جاتا ہے ۔اپنی خوبیوں کو لے کر آگے محنت کریں اور اپنی خامیوں کو قبول کریں اور بہترین عمل تو یہ ہے کہ آپ اپنی کمزوریوں کو اپنی طاقت بنائیں ۔ 3)اپنے اندر کی کیفیات سے آگاہ ہونا۔حسد ،غصہ ،مایوسی آپ کے اندر ان باتوں کی کیا وجہ ہے یہ جاننا بہت ضروری ہے ۔کون سی ایسی باتیں ہیں جو کہ آپ کے جذبات کو تحریک دیتں ہیں اور آپ کے اندر حد سے زیادہ کسی بھی جذبے کو اجاگر کرتیں ہیں ۔ان پر کنٹرول پانا بہت ضروری ہے ۔ 4)اپنے اصولوں کا تعین کرنا ۔آپ کو اپنے قول و قرار میں پختہ ہونا چاہیے ۔آپ ہمیشہ وہ بولیں جو آپ کر سکتے ہیں اور ایسی باتوں سے گریز کریں جن پر آپ قائم نہیں رہ سکتے ۔ خود شناسی کو بڑھانے کے لئے شاباش معاون ثابت ہو سکتی ہے ۔لیکن غصہ ،طنز،حسد آپ کی خود شناسی میں کمی کا سکتی ہے ۔آپ کو اپنے اندر کی طاقت ،شخصیت ،اقرار ،عادات ، احساسات اور کمزوریوں کو جاننا بھی بےحد ضروری ہے ۔خود سے آگاہی رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ وہ کیا ہیں اور کیا کرنا چاہتے ہیں اور آگے انھوں نے کیا کرنا ہے ۔خود شناسی کو جانے ۔آپ جتنا اپنے آپ کو جانتے ہیں اتنا کوئی بھی آپ کو نہیں جان سکتا ۔

Also called self-efficacy. (seif-efficacy basically
  (someone believes it he or she has ability to do that particular taste) Self-awareness can also be called self-accountability. It is the extent of faith in one's own ability, which is the state of belief, which is faith, trust in one's own self. And surely you can call it self-realization. There is a blessed hadith that says: "He who knows his own self after research has known his Lord." In another place, Prophet Muhammad (peace and blessings of Allah be upon him) said: "O Allah, grant me the knowledge of the nature of things, not the will of them." Self-knowledge makes you familiar with Allah Almighty and everything in the universe. Bringing your shortcomings and shortcomings to success with dedication and hard work is also a form of self-knowledge. There are two types of self-knowledge. 1) Self-awareness Having complete faith in oneself. An example of this is a person who strives to succeed and find a position and finally with his constant dedication and hard work, he achieves this position. 2) Lack of self-awareness or fear of failure stops a person from working hard and moving forward and before even trying, he fails himself by thinking that he cannot do anything and his own failure. Perfect belief eventually leads to failure. If I believe I can do it, I will. And even if I have a lot of difficulties in the beginning, but my will, strong belief and my own self will surely bring me to the place where I want to go. Self-awareness is very important in all matters. Whether you study or teach. Whether or not you belong to any other field, your consistency and your strong intentions are self-realization. There are four simple ways to know Self-realization. 1) First of all you should recognize that each person has his own identity. Like fingerprint, voice, appearance and height etc. In addition to this ability and intelligence too. Here you have accepted all these things then you will stop imitating people. 2) Know your strengths and weaknesses. No one is ever perfect in himself. When you know these things within yourself, it becomes easier for you to move forward. Take your strengths and work hard. Accept your flaws and the best course of action is to make your weaknesses your strengths. 3) To be aware of the conditions inside you. It is very important to know what is the reason for these things inside you. Most of them highlight any emotion. It is very important to get control over them. 4) Determining your principles. You should be firm in your words and decisions. You should always say what you can do and avoid things that you cannot stick to. Shabash can help to increase self-awareness. But anger, sarcasm, jealousy can reduce your self-awareness. It is also very important to know your inner strength, personality, confession, habits, feelings and weaknesses. Self-aware people know who they are and what they want to do and what they need to do next. Know Self-Awareness. No one can know you as well as you know yourself.

Tuesday, July 5, 2022

قربانی کا مقصد

 

قربانی

تحریر۔ کرن احمد (اٹک)

 قصہ کچھ عجیب ہے کہ ایک شخص کو دعا مانگتے ساٹھ سال کا عرصہ بیت جاتا ہے
دعا کی جاتی ہے کہ اے میرے پیارے رب مجھے نیک اور صالحہ اولاد عطا کی جائے ۔اور دعا کی قبولیت ہوتی ہے چوراسی سال کی عمر میں۔شدت سے مانگی گئی بڑھاپے کی محبوب اولاد ۔اور پھر حکم ربی ہوتا کہ اے میرے نبی اسے میری راہ میں قربان کر دو ۔ایک طرف محبوب رب کی آزمائش اور دوسری طرف وہ اولاد جسے مانگتے ہوئے زبان کپکپانے لگی۔بحکم خداوند ی کو پورا کرنے کے لئے حضرت ابرہیم علیہ السلام نے فلسطین سے مکہ تک کا گھٹن اور مشکل سفر طے کیا۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کو منی کی وادی میں لائے ۔اور بیٹے کو کہا کہ آپ کو اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کی راہ میں قربان کرنا ہے ۔اور بیٹا یہ جواب دیتا ہے کہ جو آپ کے رب کی رضاھے وہ ہی میری رضا۔دونوں کے دل میں اپنے حقیقی مالک کے لئے تڑپ اور عشق تھا جسکا ثبوت وہ اپنے عمل سے دینے جا رہے تھے ۔حضرت ابرہیم علیہ السلام نے چھری بیٹے کی گردن پر رکھی اور تاریخی الفاظ کہے جن کی گردش آج بھی ہوا کی لہروں میں سرایت کرتی محسوس ہوتی ہے ۔حضرت ابرہیم علیہ السلام نے نگاہ آسمان کی جانب اٹھائی اور فرمایا اے میرے رب بیشک تیری آزمائش کڑی ہے لیکن یہ مت سمجھنا کہ اسماعیل کی محبت تیری محبت پر غالب آ گئی ہے۔ میرے رب مجھ سے راضی رہنا یہ کہتےساتھ ہی چھری چلا دی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اللّٰہ پاک نے چھترا بھیج دیا اور یوں چھترے کی قربانی ہو گئی۔یہاں حضرت ابرہیم علیہ السلام امتحان میں کامیاب ہو گئے اور اپنے عمل سے سے ثابت کر دیا کہ محبوب کی آزمائش ہمیشہ سخت ہوا کرتی ہے ۔قربانی عربی زبان کے لفظ قربان سے نکلا ہے ۔قربان کہتے ہیں ہر وہ عمل جو اللّٰہ تبارک و تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے کیا جائے ۔ویسے تو ساری عبادات اللّہ پاک کی رضا اور خوشنودی کے لئے کی جاتی ہیں لیکن اس عبادت میں انسان کی عقل حکمت اور مصلحت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔قربانی دس گیارہ اور بارہ ذالحجہ کو ہی کی جا سکتی ہے ۔اس کے بعد اگر کوئی قربانی کرے گا تو وہ بھی صدقات میں شامل ہو گی اسے قربانی نہیں کہا جا سکتا ۔ہر سال لوگ اپنی استطاعت کے مطابق مختلف جانور ذبح کرکے سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے ہیں ۔قربانی کے جانوروں میں اونٹ، گائے، بیل،بکرا،بکری ،چھترا اور دنبہ وغیرہ شامل ہیں ۔واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں قربانی کے جانور کی قربانی درست ہونے کے لئے ان کے لئے ایک خاص عمر تعین ہے۔ یعنی بکرا ،بکری کی عمر ایک سال ہو ۔اونٹ کی عمر پانچ سال ہو ۔گائے ،بیل اور بھینس کی عمر دو سال ہو ۔البتہ دنبہ یا بھیڑ ایک سال سے کم ہو اور اتنا فربہ ہو کہ دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے ۔تمام جانوروں کی عمریں اس سے کم نہ ہوں ورنہ قربانی جائز نہیں ۔زیادہ عمر ہوتو بہتر ہے ۔قربانی کا عمل اتنا زبردست ہے کہ جو کرے وہ ہی پائے ۔قربانی کی ایک فضیلت تو یہ ہے کہ جیسے ہی قربانی کے جانور کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرے گا اللّٰہ پاک قربانی کرنے والے شخص کی بخشش فرما دے گا۔افضل عمل ہے کہ جس نے قربانی کی نیت کی ہو ذالحجہ کا چاند نظر آنے سے لے کر قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ تراشے ۔بلکہ قربانی ہونے کے بعد کاٹے جائیں تاکہ ان بالوں اور ناخنوں کی بخشش ہو سکے ۔اگر کوئی شخص قربانی کی استطاعت نہیں رکھتا تو وہ یہ عمل کرے تو اسے قائم مقام قربانی کا اجر ملے گا۔یہاں پر امیر غریب دونوں کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے ۔بہتر تو یہ ہے کہ قربانی کرنے والا شخص جانور کی قربانی ہوتے وقت اسکے پاس موجود ہو ۔اگر نہیں بھی ہوتا تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔لیکن سامنے کے اجر اور بخششِ کا معاملہ ہی کچھ اور ہے ۔قربانی کے لئے جانور صحت مند ہونا چاہیے اور اعضاء کا پورا ہونا بھی ضروری ہے ۔کہا یہ جاتا ہے کہ اگر قربانی کے جانور کے کان چاول کے دانے کے برابر کٹا ہوا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ۔جانور بے عیب ہونا ضروری ہے ۔قربانی کے جانور کے جسم پر جتنے بال ہوں گے ہر بال کے بدلے ایک نیکی عطا کی جائے گی ۔ حدیث میں ہے کہ کھاؤ بھی اور جمع بھی کر کے رکھو ۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ قربانی کا سارا گوشت خود رکھ لیا جائے ۔ غریبوں ، مسکینوں اور یتیموں کو بالکل نہ دیا جائے ۔اس سے قربانی کا اصل مقصد پورا نہیں ہوتا ۔قربانی کا گوشت کوئی عام گوشت نہیں بلکہ خاص الخاص ہے ۔دنیا میں جتنی بھی کھانے کی اشیاء ہیں قربانی کا گوشت سب سے اعلیٰ غذا ہے ۔

Saturday, May 14, 2022

The role of science in social development





                        The role of science in social development Man has stepped forward every moment and tried to know the nature and reality of the universe and things. The place he is today could not have been imagined centuries ago. Man who lives in caves today lives in great buildings and invents new ways to decorate them. Seventy-leaf-covering today makes thousands of designs of fabrics, silk, cotton, ryen, etc., and then invents new fashions in these cuts. The simple eater today prepares all kinds of food so that he has made the purpose of his life a search for the best and this search continues every moment, every moment. Man never stays in one place but every hour. The search for new destinations, the search for the horizon is his ambitious vision, his knowledge distinguishes him from other creatures of the world, and on the basis of this knowledge he is entitled to be called the noblest of creatures. The branch of science through which he seeks to know the hidden mysteries and secrets of the universe and with the help of this acquaintance he creates many things which will make his life more comfortable and convenient.

معاشرتی ترقی میں سائنس کا حصّہ انسان نے ہر لمحہ آگے کی طرف قدم بڑھایا ہے اس کائنات اور اشیا کی ماہیت اور حقیقت جاننے کی کوسشس کی ہے آج وہ جس مقام پر ہے صدیوں پہلے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا غاروں میں زندگی بسر کرنے والا انسان آج عظیم عمارات میں رہتا ہے اور ان کی تزئین و آرائش کے لئے نت نیے طریقے ایجاد کرتا ہے پتوں سے ستر پوشی کرنے والا آج ہزاروں ڈیزائن کے کپڑے بناتا ہے ریشمی سوتی ریان وغیرہ اور پھر ان تراش خراش میں بھی نت نیے فیشن ایجاد کرتا ہے سیدھی سادی خوراک کھانے والا آج انواع و اقسام کے کھانے تییار کرتا ہے غرض کے اس نے اپنی زندگی کا مقصد خوب سے خوب تر کی تلاش بنا لیا اور یہ تلاش ہر لمحہ ہر آن جاری رہتی ہے انسان کبھی ایک مقام پر نہیں ٹھہرتا بلکہ ہر گھڑی سر گرم سفر رہتا ہے نئی منزلوں کی تلاش نیے افق کی جستجو اس کا مطمع نظر ہے اس کا علم اسے دنیا کی دوسری مخلوق سے ممتاز کر تا ہے اور اسی علم کے سہارے وہ اشرفلمخلوقات کہلانے کا حق دار بھی ٹھہرتا ہے اس کے علم کی ایک شاخ سائنس ہے جس کے زریعے وہ کائنات کے پوشیدہ اسرار و رموز جاننے کی کوشش کرتا ہے اور اس واقفیت کے سہارے بہت سی ایسی چیزیں تخلیق کرتا ہے جو اس کی زندگی کو زیادہ پر سکوں پر آسائش اور سہل بنا د





Wednesday, December 1, 2021

رسالت محمدی کی خصوصیات

 




رسالت محمدی کی خصوصیات

 

طلوع اسلام سے پہلے عرب جہالت کے اندھیروں میں گہرے  ہوئے انتہائی پسماندہ اور غیر مہذب جاھل اور مشرکانہ رسومات کے پابند تھے قتل غارت گری  کا دور دورہ تھا ایسے میں خداوند تعالیٰ کو انسانیت پر رحم آیا حضور کو نبوت سے سرفراز فرما کر تاریکیوں میں ڈوبے عربوں کی ہدایت و رہنمائی کا انتظام فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ان خصوصیات کی بطور خاص حامل  تھی

1.                                                     رسالت عامہ

حضور  اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے  بھی انبیاء آئے ان  کی رسالت ان کی قوم  اور زمانے تک محدود رہی یہ ہی وجہ ہے کہ ایک ہی وقت میں مختلف اقوام میں مختلف انبیاء موجود رہے لیکن جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالمگیر رسالت سے نوازا گیا جو کسی وقت زمانہ یا قوم تک محدود نہیں چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے

 

ترجمہ ... اے پیغمبر ہم نے تو آپ کو سارے ہی انسانوں کے واسطے رسول بنا کر بھیجا ہے

2.                                                     سابقہ شریعتوں کی منسوخی

شریعت محمدی میں ننفاذ  کے بعد پچھلی ساری شریعتوں کو منسوخ کر دیا گیا جن سے مراد شریعت موسوی (حضرت موسی علیہ السلام )شریعت عیسوی ( حضرت عیسی علیہ السلام) اور تمام شرائع  سابقہ ہیں چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے

ترجمہ۔۔۔ اور جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین کو تلاش کرے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا

3.                        حفاظت کتاب                                                                 

 

اللہ تعالی نے  انبیاء علیہ السلام پر پر بہت سی کتابیں  نازل کیں  لیکن اہل کتاب نے ان  آسمانی کتابوں کی اصلی شکل تبدیل کرتے  ہوئے ان  میں  طرح  طرح  کی تحریفیں کر ڈالیں   لیکن حضور اقدس  صلی اللہ علیہ وسلم پر  نازل کردہ کتاب  قرآن مجید کی  حفاظت کیذمہ داری  خود اللہ تعالی نےلی  ہے اس میں کوئی شخص  معمولی سی بھی تحریف نہیں کر سکتا ارشاد باری تعالیٰ ہے

ترجمہ ؛بے شک ہم نےیہ ذکر ( قرآن )  نازل کیا  اور ہمہی اس کے محافظ ہیں

4.                 سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت

اللہ کی طرف سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی  حفاظت کا بھی عظیم انتظام کیا گیا ہےہر دور میں محدثین  کرام کی  ایسی جماعت موجود رہیں ہیں جس نے  سنت نبوی کی حفاظت کے لیے اپنی زندگیاں وقف  کر دیں چونکہ سنت  قرآن مجید کی  شرح ہے جو قیامت تک کے انسانوں کے لئے سرچشمہ ہدایت ہے اس لئے الله نے جس طرح  قرآن مجید کی حفاظت کا انتظام کیا اسی طرح سنت نبوی کی حفاظت کا انتظام بھی فرما دیا

5.                 تکمیل دین

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک کامل شریعت عنایت ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر  دین کی تکمیل ہوئی ارشاد ہے

ترجمہ ؛ آج میں نے تمہارے لئے دین مکمل کر دیا

6. ختم نبوت               

ختم نبوت کا  مفہوم  یہ ہے کہ وہ مبارک سلسلہ جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور ایک لاکھ چوبیس ہزار  پیغمبروں سے چلتا ہوا  حضرت محمد کی بعثت سے پایہ تکمیل کوپہنچا ارشاد باری تعالیٰ ہے

ترجمہ ؛ حضرت محمد تم میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں

 

                 Before the rise of Islam, the Arabs were deep in the darkness of ignorance, extremely backward and uncivilized, ignorant and bound by polytheistic rituals. There was a long period of murder and looting. In such a situation, God Almighty had mercy on humanity and exalted the Holy Prophet with prophethood. He arranged for the guidance and guidance of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him).

1. Public mission

                All the prophets who came before the Holy Prophet (PBUH) were limited to their nation and time. This is the reason why there were different prophets in different nations at the same time, but Muhammad, the Messenger of Allah (PBUH) was universal. He was blessed with the Prophethood, which is not limited to any age or nation, as the Almighty has said

    Translation... O Prophet, We have sent you as a Messenger for all mankind

2. Repeal of previous laws

                After the implementation of the Muhammadan Sharia, all the previous Sharia were abrogated, which means the Sharia of Moses (Hazrat Musa, peace be upon him), the Sharia of Christ (Hazrat Isa, peace be upon him) and all previous sharia, so says the Almighty.

Translation And whoever seeks a religion other than Islam, it will never be accepted by him

3. Safety book                                                                 

                Allah revealed many books to the prophets, but the people of the book changed the original form of these heavenly books and made various distortions in them, but the book revealed to the Holy Prophet, peace be upon him, is the duty of protecting the Holy Qur'an. Allah Almighty Himself has taken the law, and no one can make even the slightest distortion in it

Translation: Verily, We sent down this remembrance (Qur'an) and we are its guardians

4. Protecting the Prophet's Sunnah

                Allah has also made a great provision for the protection of the Sunnah of the Holy Prophet (Sallallahu Alaihi Wasallam). It is the share which is the source of guidance for humans until the Day of Resurrection, therefore, just as Allah has arranged for the protection of the Holy Quran, in the same way, he has also arranged for the protection of the Sunnah of the Prophet.

5. Completion of religion

                The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) was given a perfect Shariah.

Translation; Today I have completed the religion for you

6. Termination of Prophethood               

                The meaning of the end of prophethood is that the blessed chain which started with Hazrat Adam (peace be upon him) and followed by one hundred and twenty four thousand prophets reached its completion with the sending of Hazrat Muhammad.

translation; Hazrat Muhammad is not the father of any of you, but he is the Messenger of Allah and the Seal of the Prophets

 

Monday, November 29, 2021

آخرت/HEREAFTER

 

آخرت کے لغوی معنی ہیں  بعد میں آنے والی چیز جس کے مقابلے میں  لفظ دنیا یا اس کے معنی ہیں قریب  کی چیز شریعت کی اصطلاح میں  آخرت کا مطلب یہ ہے  کہ انسان مرنے کے بعد ہمیشہ کے لئے فنا نہیں ہو جاتا اس کی روح باقی رہتی ہے  اور ایک وقت ایسا آئے گا اللہ تعالی اس کی روح کو اس کے جسم میں منتقل کر کے اسے دوبارہ زندہ کرے گا  اور پھر پھر انسان کے نیک و   بد  اعمال کا حقیقی بدلہ  اس کو دیا جائے گا 

نیک  لوگ جنت میں جائیں گے اور گنہگار لوگ جہنم میں  رہیں گے  اورقرآن پاک اور احادیث مبارک میں آخرت کو اصلی گھر قرار دیا گیا ہے چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے

 اور یہ دنیا کی زندگی کھیل تماشہ ہے اور ہمیشہ کی زندگی تو صرف آخرت ہے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا  دنیا مسلمانوں کے لیے قید خانہ اورکافروں  کے لیے جنت ہے

انسان کی دنیاوی  زندگی اور اور آخرت کی زندگی کا پیش خیمہ ہے انسان

کی دنیاوی  زندگی  داخلی اور آخرت کی زندگی دائمی ہے

انسان کی داخلی زندگی میں جن اعمال کا بیج بوے گا تو اس کے حقیقی نتائج آخرت کی زندگی میں ظاہر ہوں گے جس طرح دنیا کی ہر چیزعلیحدہ علیحدہ اپنی عمر رکھتی ہے جس کے پورے ہوتے ہی وہ ختم ہو جاتی ہے اسی طرح پورے نظام عالم کی بھی ایک عمر ہے جس کے تمام ہوتے ہی وہ نظام ختم ہو جائیگا اور ایک دوسرا نظام اس کی جگہ لےلیگا جب وہ نظام درہم برہم ہو آئیگا  اور ایک دوسرا نظام اس کی جگہ لے لیگا تو انسان کو ایک نئی جسمانی زندگی ملے گی جس میں انسان کے تمام اعمال کا حساب ہوگا

HEREAFTER

            The literal meaning of the hereafter is the thing that comes after, compared to which the word dunya or its meaning is the near thing. And a time will come when Allah will transfer his soul to his body and revive him again, and then he will be given the true reward for his good and bad deeds. 

             Good people will go to heaven and sinners will live in hell and in the Holy Qur'an and blessed hadiths, the hereafter has been declared as the real home.

             And he life of this world is a play and the eternal life is only the hereafter

            The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, "The world is a prison for Muslims and a paradise for disbelievers."

            Man is the forerunner of the worldly life of man and the life of the hereafter

            The life of this world is internal and the life of the hereafter is eternal

            The actions that are sown in the inner life of a person will show their real results in the life of the hereafter. There is also an age, at the end of which that system will end and another system will take its place. All actions will be accounted for

Friday, November 12, 2021

نماز( صلاۃ )

 



عربی زبان میں نماز کے لئے صلاۃ کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کے لغوی معنی ہیں دعا کرنا شریعت کی اصطلاح میں مخصوص عبادت جو رکوع سجدے پر مشتمل ہوتی ہے        

قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں جا بجا نماز قائم کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور ارشاد باری تعالیٰ ہے اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ نماز دین کا ستون ہے نبوت کے دسوہں سال ہجرت سے تقریباً تین سال پہلے معراج نبوی کے موقع پر نماز فرض ہوئی ابتدائی پانچ نمازیں فرض ہوئی تھیں پھر کم ہوتے ہوتے پانچ ہو گئیں  حضور کا ارشاد ہے جو شخص ان پانچوں نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کرنے کا اہتمام کرے ۔ میں اس کو اپنی ذمہ داری پر جنت میں داخل کرونگا

اور ایک بے روح نماز بھی ہوتی  ہے روح نمازوں سے مراد بے  مقصد اوربے  فائدہ نمازیں ہیں مطلب اس کا یہ ہے کہ نماز انسان کی عملی زندگی میں دیرپا انقلاب برپا کرتی ہے فلاح وکامیابی کے راستے پر گامزن کرتی ہے

ارشاد باری تعالیٰ ہے بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے

 

مگر جب  نماز کو اس کے حقوق کی ادائیگی کے بغیر بس خانہ پْری  کے لئے ادا کیا جائے تو نماز کے جسمانی اور روحانی فوائد اور ثمرات ہیں  ہے وہ حاصل  نہیں ہو پاتے جس کی وجہ سے وہ نمازبے روح ہے    یعنی وہ ایک ایسا جسم ہے  جس میں روح نہیں یا  ایک ایسا پھول ہے  جس میں خوشبو نہی


PRAYER

In the Arabic language, the word salat is used for prayer, which literally means to pray        

In the Holy Qur'an and the blessed hadiths, it has been          

 recommended to establish prayer regularly, and Allah Almighty has said, "Establish prayer and pay zakat" and the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) has said. Prayer is the pillar of religion Ten hundred years of prophethood, about three years before Hijra, prayer became obligatory on the occasion of Prophet's Ascension, the first five prayers were obligatory, then they became less and less five. Arrange to pay. I will admit him to heaven on my responsibilit

And there is also a soulless prayer. The soul prayers mean purposeless and useless prayers. It means that the prayer creates a lasting revolution in the practical life of a person and leads him on the path of well-being and success.

Indeed, the prayer prevents indecency and evil deeds

  But when the prayer is offered only for the poor without paying its rights, then the physical and spiritual benefits and fruits of the prayer are not achieved, due to which the prayer is soulless, that is, it is a body that is I am not a soul or a flower without fragrance 


Thursday, October 28, 2021

ناز خیالوی




 مشہورِ زمانہ قوالی (تم اک گورکھ دھندہ ہو) جس کو استاد نصرت فتح علی خان کی آواز نے امر کر دیا لیکن اس کے شاعر کو بہت کم لوگ جانتے ہوں گے ۔آیئے ان کے بارے میں جانتے ہیں ۔

پیدائش 

ان کا اصل نام محمد صدیق اور تخلص ناز تھا۔ ناز خیالوی"جھوک خیالی" نامی ایک گاؤں394 گ ب میں 1947ء میں پیدا ہوئے اور اسی نسبت سے انھیں خیالوی کہا جاتا ہے۔ جھوک خیالی گاؤں ضلع فیصل آباد، صوبہ پنجاب، پاکستان میں تاندلیانوالہ کے نزدیک اور لاہور سے 174 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے


شاگردی 

وہ ایک ممتاز اردو شاعر احسان دانش کے ایک شاگرد تھے۔


ذریعہ معاش

ناز کا ذریعہ معاش فیصل آباد ریڈیو سے نشر ہونے والا ایک پروگرام “صندل دھرتی“ تھا، جس کی میزبانی وہ 27 برس تک کرتے رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اردو اور پنجابی، دونوں زبانوں میں نغمے لکھے۔


شہرت 

ناز بنیادی طور پر ان کی ایک نظم "تم اک گورکھ دھندا ہو"، جسے نصرت فتح علی خان نے گایا تھا، کی نسبت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی کچھ نظمیں عطاء اللہ نیازی نے بھی گا رکھی ہیں۔


کلام 

ناز کی شاعری دو مجموعوں پر مشتمل ہے

تم اک گورکھ دھندا ہو (اردو)'

 سائیاں وے (پنجابی)


وفات 

انہوں نے شادی نہیں کی اور 12 دسمبر 2010ء کو ماموں کانجن (پنجاب) اپنے مرشد خانہ پاکستان میں وفات پائی۔



Tuesday, October 19, 2021

ما ما عظمت/ mama azmat


 
اس ناول میں ڈپٹی نزیر احمد نے دہلی کے شریف خاندانوں کی معاشرت کا ہو بہو نقشہ کھینچا ہے اور دو بہنوں اکبری اور اصغری کیسی ہیں ایک انپڑھ جاہل پھوہڑ اور بد مزاج دوسری تعلیم یافتہ مہذب با اخلاق دانشمند معاملہ فہم اور تمیز دار ہے اس قصّے سے ان کا مقصد تعلیم و تربیت کا احساس دلانا ہے کہ اسی کے زریعے زندگی خوشگوار ہو سکتی ہے

مولوی محمّد فاضل کے گھر کی ایک پرانی ملازمہ ما ما عظمت نے اپنی مکاری چالاکی اور لالچ سے گھر کو قرضے کے بوجھ میں جکڑ دیا اس کی وجہ یہ تھی کہ گھر کا سودا ادھر آتا تھا بے ایمان اس گھر کے حساب میں اپنی بیٹی اور چند دوسرے لوگوں کا بھی گھر چلایا کرتی تھی مولوی صاحب جب آتے تو بغیر حساب رقم ما ما کے حوالے کر دیتے تو وہ کسی کو کم دیتی اور ہر حساب میں ڈنڈی مارتی تھی وہ مولوی صاحب کے اعتماد کا خون کرتی رہتی جب تک کہ اس گھر میں تمیز دار بہو اصغری نہ آگئی .

اصغری چونکہ پڑھی لکھی سمجھداراور معاملہ فہم لڑکی تھی لہٰذا اس نے ما ما عظمت کے مشکوک اور بے اعتبار کردار کو جان لیا اور اسے بے نقاب کرنے لئے موقع کی تلاش میں رہتی مولوی صاحب نے جب رقم ما ما عظمت کے حوالے کرنا چاہی تو اصغری نے کہا کہ جتنے قرض خواہ ہیں انھیں روبرو بلا کر حساب کتاب سے رقم ادا کی جائے   ما ما عظمت نے کئی بہابے تراشنے مگر اصغری نے دانشمندی سے ہر بہانے کا توڑ کیا اور ما ما کو سب قرض خواؤں کو بلانا ہی پڑا .سب سے پہلے حلوائی آیا اور قرض کے تیس روپے بتاے معلوم کرنے پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ دس سیر شکر شب برات پر اور چار سیر بالو شاہی مولود شریف کے واسطے جبکہ ان چیزوں کو نہیں منگایا گیا تھا ما ما عظمت بہت ستپتائی اصل قرض صرف چھ سات روپے نکلے اسی طرح سبزی فروش قصائی کے حساب میں بھی ما ما کی نیت کا فتور نکلا اب تمام گھر والوں کی آنکھیں کھل گئیں ما ما عظمت پر خوب لعنت ملامت برستی رہی اگلے روز بڑے قرض خواؤں کی باری آنی تھی مگر ما ما پہلی ہی رات کو بزاز اور ھزاری مل کے گھر گئی ان دونوں کو سونے کی چوڑیاں اور زیور دیے کہ حساب کے وقت نکال کر واجبی سا قرضہ بتایا جائے مگر مولوی صاحب کے ملازم نے اس کو دونوں کے گھر جاتے دیکھا اور چپکے سے مولوی صاحب کو بتایا اور پھر یہ خبر اصغری کو بھی مل گئ اگلے روز جب دونوں قرض خواہ مولوی صاحب ک مکان پہنچے اور حساب کتاب ہونے لگا تو ما ما عظمت بہت بڑھ چڑھ کر بول رہی تھی اس کی چرب زبانی دیکھ کر دونوں نے ما ما کا دیا ہوا زیور اس کی طرف پھینک دیا اور کھا اپنا سامان رکھ لو یہ ہماری اصل رقم سے کہیں کم قیمت کا ہے ایک ہی لمحے میں بڑھیا کی بولتی بند ہو گئ اور ان دونوں کے قرضے کے عیوض اس کو اپنا مکان دینا پڑا اس بے ایمانی اور مکاری کے نتجے میں اسے انتاہی بے آبرو ہو کر گھر سے نکلنا پڑا .

لالچ حرص و هوس اور مکاری کا انجام بالآخر بھیانک ہوتا ہے لہٰذا اس طرح کے غلیظ اور بری عادت سے دور رہا جائے اس کا دوسرا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ خواتین کو تعلیم یافتہ ہونا چاہیے تاکہ معاملات کو سمجھ سکیں کبھی کسی پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ نہیں کرنا چاہیے اور اپنی سمجھ اور زہن کو استمال کرنا چاہیے

MAMA AZMAT

In this novel, Deputy Nazir Ahmed has drawn a detailed map of the society of the noble families of Delhi and how are the two sisters Akbari and Asghari, one is illiterate, ignorant, arrogant and ill-tempered, the other is educated, educated, moral and wise. Their aim is to make the education and training feel that life can be happy through it
Mama Azmat, an old servant of Maulvi Muhammad Fazal's house, with her cunning and greed, put the house under the burden of debt. Maulvi used to run the house of other people too. When she came, she would hand over the money to Ma Ma without accounting. Tamizdar daughter-in-law Asghari did not come.

Since Asghari was an educated, sensible and understanding girl, she knew the suspicious an untrustworth
 character of Mama Azmat and was looking for an opportunity to expose it. When Maulvi Sahib wanted to hand over the money to Mama Azmat, Asghari He said that all the borrowers should be called face to face and the money should be paid from the account book. Mama Azmat made many excuses, but Asghari wisely broke every excuse and Mama had to call all the borrowers. First of all, Halvai. On finding out that he had given 30 rupees for the loan, it was surprisingly revealed that 10 sers on Shukar Shab-e-Barat and 4 sers for Balu Shahi Mawold Sharif, while these things were not asked for, Ma Ma Azmat, very satpattai, the original loan was only six or seven rupees. In the same way, in the account of the vegetable seller, the butcher, Mama's intention was revealed. Now the eyes of all the family members were opened. She went to the house of Bajaz and Hazari Mill and gave them gold bangles and jewels so that the due debt would be reported at the time of calculation, but Maulvi Sahib's servant saw her going to their house and secretly told Maulvi Sahib and then this. Asghari also got the news. The next day, when the two borrowers reached Maulvi Sahib's house and the accounts began to be settled, Mama Azmat was speaking very loudly. Throw it away and eat it. Keep your stuff. It is worth much less than our original money. In a moment, the old woman stopped talking and she had to give her house to pay for the debt of both of them. He had to leave the house after becoming extremely dishonorable.

Greed and scheming ultimately end badly so stay away from such filthy and bad habits. Another main point is that women should be educated to understand the issues and never turn a blind eye to someone. One should not trust and use one's own understanding and intelligence

Wednesday, July 7, 2021

روزہ

  روزہ 

عربی زبان میں روزے کے لئے صوم کا لفظ استمال ہوتا ہے جس کے لغوی معنی ہیں " روکنا ".شریعت کی اصطلاح میں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے عبادت کی غرض سے روکنے کا نام روزہ ہے . الله تعالیٰ کا ارشاد ہے ترجمہ "اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے تم سے قبل لوگوں پر فرض کئے گئے شاید تم پرہیزگار بن جاؤ.حضور ﷺ کا ارشاد ہے ترجمہ "روزہ (دوزخ سے ) ڈھال ہے .

روزے کی چار اقسام ہیں .

١.فرض جیسے رمضان المبارک کے روزے 

٢.واجب جیسے  نذر یعنی منت کے روزے 

٣. سنت جیسے یوم عاشورا اور ایام بیض (چاند کی ١٣/١٤/١٥ تاریخ ) کے روزے

٤. نفل جیسے ماہ شوال کے روزے 

روزے کا اصل مقصد اور فلسفہ انسان کو گناہوں سے بچانا اور اس بات کی مشق کرانا ہے کہ انسان فطری طور پر گناہوں سے دور رہنے کا عادی ہو جائے صرف بھوکا پیاسا رکھنا مقصد نہیں . انسان کو دنیا میں بھیجا گیا تو کچھ چیزوں کو حلال رکھا گیا اور کچھ کو حرام ، حرام کاموں سے روکا گیا اور حلال امور انجام دینے کی اجازت دی گی لیکن رمضان میں حلال امور سے بھی روکا گیا تاکہ اس مشق اور پریکٹس کی بدولت رمضان کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں میں کم از کم حرام کاموں سے بچنے کی مشق ہو لہٰذا اگر کوئی شخص روزہ رکھ کر بھی گناہوں سے اور حرام کاموں سے نہیں بچتا تو اسے روزہ نہیں کہا جا سکتا ارشاد نبوی ﷺ ہے " جو شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹ پر عمل کرے تو خدا کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی حاجت نہیں ".


FASTING


In the Arabic language, the word Sawm is used for fasting, which literally means "stopping". In the term of Shari'ah, fasting is the act of abstaining from food and drink and from carnal desires for the purpose of worship from dawn to sunset. The translation of Allah Almighty is: "O you who believe, fasting has been prescribed for you as it was prescribed for people before you. Perhaps you will become pious."

There are four types of fasting.

1. Obligations such as Ramadan fasting 

2. Wajib, such as vows, fasts of vows 

3. Sunnah such as fasting on Ashura and Ayam Baid (13th/14th/15th of the Moon).

4. Fasting in the month of Shawwal like Nafl 

The main purpose and philosophy of fasting is to save man from sins and to make him practice that man naturally becomes accustomed to stay away from sins, not just keeping him hungry and thirsty. When man was sent to this world, some things were made halal and some things were prohibited from haraam, haraam actions and halal affairs will be allowed to be done, but in Ramadan he was also prevented from halal affairs so that thanks to this practice and practice, Ramadan In addition, in the remaining eleven months, at least the practice of avoiding forbidden acts should be practiced, so if a person does not avoid sins and forbidden acts even after fasting, then he cannot be called fasting. If he acts on it, God has no need for him to be hungry and thirsty."

دل کی صحت کے لیے غذا کا منصوبہ

  ✅ دل کی صحت کے لیے غذا کا منصوبہ ناشتہ ہول ویٹ ڈبل روٹی/جو کا دلیہ اور تازہ پھل (کیلا، بیریز وغیرہ) کم چکنائی والا دودھ یا دہی ب...