self -efficacy/خود شناسی
self -efficacy بھی کہتے ہیں ۔ (seif -efficacy basicallyتحریر۔ کرن احمد( اٹک )
General knowledge helps us learn new things and understand the world better. From history to science and geography, knowing these facts can make conversations more interesting and improve our understanding of daily life. Keep learning and exploring new facts every day!
self -efficacy/خود شناسی
self -efficacy بھی کہتے ہیں ۔ (seif -efficacy basicallyتحریر۔ کرن احمد( اٹک )
رسالت محمدی کی خصوصیات
طلوع
اسلام سے پہلے عرب جہالت کے اندھیروں میں گہرے
ہوئے انتہائی پسماندہ اور غیر مہذب جاھل اور مشرکانہ رسومات کے پابند تھے
قتل غارت گری کا دور دورہ تھا ایسے میں
خداوند تعالیٰ کو انسانیت پر رحم آیا حضور کو نبوت سے سرفراز فرما کر تاریکیوں میں
ڈوبے عربوں کی ہدایت و رہنمائی کا انتظام فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ان
خصوصیات کی بطور خاص حامل تھی
1.
رسالت عامہ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے بھی انبیاء آئے ان کی رسالت ان کی قوم اور زمانے تک محدود رہی یہ ہی وجہ ہے کہ ایک ہی
وقت میں مختلف اقوام میں مختلف انبیاء موجود رہے لیکن جناب محمد رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو عالمگیر رسالت سے نوازا گیا جو کسی وقت زمانہ یا قوم تک محدود
نہیں چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
ترجمہ
... اے پیغمبر ہم نے تو آپ کو سارے ہی انسانوں کے واسطے رسول بنا کر بھیجا ہے
2.
سابقہ شریعتوں کی منسوخی
شریعت محمدی میں ننفاذ
کے بعد پچھلی ساری شریعتوں کو منسوخ کر دیا گیا جن سے مراد شریعت موسوی
(حضرت موسی علیہ السلام )شریعت عیسوی ( حضرت عیسی علیہ السلام) اور تمام شرائع سابقہ ہیں
چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے
ترجمہ۔۔۔ اور جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین کو تلاش کرے
گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا
3. حفاظت کتاب
اللہ
تعالی نے انبیاء علیہ السلام پر پر بہت سی
کتابیں نازل کیں لیکن اہل کتاب نے ان آسمانی کتابوں کی اصلی شکل تبدیل کرتے ہوئے ان
میں طرح طرح کی
تحریفیں کر ڈالیں لیکن حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ کتاب قرآن مجید کی
حفاظت کیذمہ داری خود اللہ تعالی
نےلی ہے اس میں کوئی شخص معمولی سی بھی تحریف نہیں کر سکتا ارشاد باری
تعالیٰ ہے
ترجمہ
؛بے شک ہم نےیہ ذکر ( قرآن ) نازل کیا اور ہمہی اس کے محافظ ہیں
4. سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت
اللہ
کی طرف سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی حفاظت کا بھی عظیم انتظام کیا گیا ہےہر دور میں
محدثین کرام کی ایسی جماعت موجود رہیں ہیں جس نے سنت نبوی کی حفاظت کے لیے اپنی زندگیاں
وقف کر دیں چونکہ سنت قرآن مجید کی
شرح ہے جو قیامت تک کے انسانوں کے لئے سرچشمہ ہدایت ہے اس لئے الله نے جس
طرح قرآن مجید کی حفاظت کا انتظام کیا اسی
طرح سنت نبوی کی حفاظت کا انتظام بھی فرما دیا
5. تکمیل دین
حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک کامل شریعت عنایت ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری
نبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر
دین کی تکمیل ہوئی ارشاد ہے
ترجمہ
؛ آج میں نے تمہارے لئے دین مکمل کر دیا
6. ختم نبوت
ختم
نبوت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ مبارک سلسلہ جو حضرت آدم علیہ
السلام سے شروع ہوا اور ایک لاکھ چوبیس ہزار
پیغمبروں سے چلتا ہوا حضرت محمد کی
بعثت سے پایہ تکمیل کوپہنچا ارشاد باری تعالیٰ ہے
ترجمہ
؛ حضرت محمد تم میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین
ہیں
1. Public mission
All the prophets who came before the Holy Prophet (PBUH) were limited to their nation and time. This is the reason why there were different prophets in different nations at the same time, but Muhammad, the Messenger of Allah (PBUH) was universal. He was blessed with the Prophethood, which is not limited to any age or nation, as the Almighty has said
Translation... O Prophet, We have sent you as a Messenger for all mankind
2. Repeal of previous laws
After the implementation of the Muhammadan Sharia, all the previous Sharia were abrogated, which means the Sharia of Moses (Hazrat Musa, peace be upon him), the Sharia of Christ (Hazrat Isa, peace be upon him) and all previous sharia, so says the Almighty.
Translation And whoever seeks a religion other than Islam, it will never be accepted by him
3. Safety book
Allah revealed many books to the prophets, but the people of the book changed the original form of these heavenly books and made various distortions in them, but the book revealed to the Holy Prophet, peace be upon him, is the duty of protecting the Holy Qur'an. Allah Almighty Himself has taken the law, and no one can make even the slightest distortion in it
Translation: Verily, We sent down this remembrance (Qur'an) and we are its guardians
4. Protecting the Prophet's Sunnah
Allah has also made a great provision for the protection of the Sunnah of the Holy Prophet (Sallallahu Alaihi Wasallam). It is the share which is the source of guidance for humans until the Day of Resurrection, therefore, just as Allah has arranged for the protection of the Holy Quran, in the same way, he has also arranged for the protection of the Sunnah of the Prophet.
5. Completion of religion
The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) was given a perfect Shariah.
Translation; Today I have completed the religion for you
6. Termination of Prophethood
The meaning of the end of prophethood is that the blessed chain which started with Hazrat Adam (peace be upon him) and followed by one hundred and twenty four thousand prophets reached its completion with the sending of Hazrat Muhammad.
translation; Hazrat Muhammad is not the father of any of you, but he is the Messenger of Allah and the Seal of the Prophets
آخرت کے لغوی معنی ہیں بعد میں آنے والی چیز جس کے مقابلے میں لفظ دنیا یا اس کے معنی ہیں قریب کی چیز شریعت کی اصطلاح میں آخرت کا مطلب یہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد ہمیشہ کے لئے فنا نہیں ہو جاتا اس کی روح باقی رہتی ہے اور ایک وقت ایسا آئے گا اللہ تعالی اس کی روح کو اس کے جسم میں منتقل کر کے اسے دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر پھر انسان کے نیک و بد اعمال کا حقیقی بدلہ اس کو دیا جائے گا
نیک لوگ جنت میں جائیں گے اور گنہگار لوگ جہنم میں رہیں گے
اورقرآن پاک اور احادیث مبارک میں آخرت کو اصلی گھر قرار دیا گیا ہے چناچہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے
اور یہ دنیا کی زندگی کھیل تماشہ ہے
اور ہمیشہ کی زندگی تو صرف آخرت ہے
حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا
مسلمانوں کے لیے قید خانہ اورکافروں کے لیے
جنت ہے
انسان
کی دنیاوی زندگی اور اور آخرت کی زندگی کا
پیش خیمہ ہے انسان
کی
دنیاوی زندگی داخلی اور آخرت کی زندگی دائمی ہے
انسان
کی داخلی زندگی میں جن اعمال کا بیج بوے گا تو اس کے حقیقی نتائج آخرت کی زندگی میں
ظاہر ہوں گے جس طرح دنیا کی ہر چیزعلیحدہ علیحدہ اپنی عمر رکھتی ہے جس کے پورے
ہوتے ہی وہ ختم ہو جاتی ہے اسی طرح پورے نظام عالم کی بھی ایک عمر ہے جس کے تمام
ہوتے ہی وہ نظام ختم ہو جائیگا اور ایک دوسرا نظام اس کی جگہ لےلیگا جب وہ نظام
درہم برہم ہو آئیگا اور ایک دوسرا نظام اس
کی جگہ لے لیگا تو انسان کو ایک نئی جسمانی زندگی ملے گی جس میں انسان کے تمام
اعمال کا حساب ہوگا
HEREAFTER
The literal meaning of the hereafter is the thing that comes after, compared to which the word dunya or its meaning is the near thing. And a time will come when Allah will transfer his soul to his body and revive him again, and then he will be given the true reward for his good and bad deeds.
Good people will go to heaven and sinners will live in hell and in the Holy Qur'an and blessed hadiths, the hereafter has been declared as the real home.
And he life of this world is a play and the eternal life is only the hereafter
The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, "The world is a prison for Muslims and a paradise for disbelievers."
Man is the forerunner of the worldly life of man and the life of the hereafter
The life of this world is internal and the life of the hereafter is eternal
The actions that are sown in the inner life of a person will show their real results in the life of the hereafter. There is also an age, at the end of which that system will end and another system will take its place. All actions will be accounted for
عربی
زبان میں نماز کے لئے صلاۃ کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کے لغوی معنی ہیں دعا کرنا
شریعت کی اصطلاح میں مخصوص عبادت جو رکوع سجدے پر مشتمل ہوتی ہے
قرآن
پاک اور احادیث مبارکہ میں جا بجا نماز قائم کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور ارشاد
باری تعالیٰ ہے اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور حضور پاک صلی اللہ علیہ
وسلم کا ارشاد ہے۔ نماز دین کا ستون ہے نبوت کے دسوہں سال ہجرت سے تقریباً تین سال
پہلے معراج نبوی کے موقع پر نماز فرض ہوئی ابتدائی پانچ نمازیں فرض ہوئی تھیں پھر کم ہوتے ہوتے پانچ ہو گئیں حضور کا ارشاد ہے جو شخص ان پانچوں نمازوں کو ان
کے وقت پر ادا کرنے کا اہتمام کرے ۔ میں اس کو اپنی ذمہ داری پر جنت میں داخل
کرونگا
اور
ایک بے روح نماز بھی ہوتی ہے روح نمازوں
سے مراد بے مقصد اوربے فائدہ نمازیں ہیں مطلب اس کا یہ ہے کہ نماز
انسان کی عملی زندگی میں دیرپا انقلاب برپا کرتی ہے فلاح وکامیابی کے راستے پر
گامزن کرتی ہے
ارشاد
باری تعالیٰ ہے بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے
مگر جب نماز کو اس کے حقوق کی ادائیگی کے بغیر بس خانہ پْری کے لئے ادا کیا جائے تو نماز کے جسمانی اور روحانی فوائد اور ثمرات ہیں ہے وہ حاصل نہیں ہو پاتے جس کی وجہ سے وہ نمازبے روح ہے یعنی وہ ایک ایسا جسم ہے جس میں روح نہیں یا ایک ایسا پھول ہے جس میں خوشبو نہی
PRAYER
In the Arabic language, the word salat is used for prayer, which literally means to pray
In the Holy Qur'an and the blessed hadiths, it has been
recommended to establish prayer regularly, and Allah Almighty has said, "Establish prayer and pay zakat" and the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) has said. Prayer is the pillar of religion Ten hundred years of prophethood, about three years before Hijra, prayer became obligatory on the occasion of Prophet's Ascension, the first five prayers were obligatory, then they became less and less five. Arrange to pay. I will admit him to heaven on my responsibilit
And there is also a soulless prayer. The soul prayers mean purposeless and useless prayers. It means that the prayer creates a lasting revolution in the practical life of a person and leads him on the path of well-being and success.
Indeed, the prayer prevents indecency and evil deeds
مشہورِ زمانہ قوالی (تم اک گورکھ دھندہ ہو) جس کو استاد نصرت فتح علی خان کی آواز نے امر کر دیا لیکن اس کے شاعر کو بہت کم لوگ جانتے ہوں گے ۔آیئے ان کے بارے میں جانتے ہیں ۔
پیدائش
ان کا اصل نام محمد صدیق اور تخلص ناز تھا۔ ناز خیالوی"جھوک خیالی" نامی ایک گاؤں394 گ ب میں 1947ء میں پیدا ہوئے اور اسی نسبت سے انھیں خیالوی کہا جاتا ہے۔ جھوک خیالی گاؤں ضلع فیصل آباد، صوبہ پنجاب، پاکستان میں تاندلیانوالہ کے نزدیک اور لاہور سے 174 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے
شاگردی
وہ ایک ممتاز اردو شاعر احسان دانش کے ایک شاگرد تھے۔
ذریعہ معاش
ناز کا ذریعہ معاش فیصل آباد ریڈیو سے نشر ہونے والا ایک پروگرام “صندل دھرتی“ تھا، جس کی میزبانی وہ 27 برس تک کرتے رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اردو اور پنجابی، دونوں زبانوں میں نغمے لکھے۔
شہرت
ناز بنیادی طور پر ان کی ایک نظم "تم اک گورکھ دھندا ہو"، جسے نصرت فتح علی خان نے گایا تھا، کی نسبت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی کچھ نظمیں عطاء اللہ نیازی نے بھی گا رکھی ہیں۔
کلام
ناز کی شاعری دو مجموعوں پر مشتمل ہے
تم اک گورکھ دھندا ہو (اردو)'
سائیاں وے (پنجابی)
وفات
انہوں نے شادی نہیں کی اور 12 دسمبر 2010ء کو ماموں کانجن (پنجاب) اپنے مرشد خانہ پاکستان میں وفات پائی۔
مولوی محمّد فاضل کے گھر کی ایک پرانی ملازمہ ما ما عظمت نے اپنی مکاری چالاکی اور لالچ سے گھر کو قرضے کے بوجھ میں جکڑ دیا اس کی وجہ یہ تھی کہ گھر کا سودا ادھر آتا تھا بے ایمان اس گھر کے حساب میں اپنی بیٹی اور چند دوسرے لوگوں کا بھی گھر چلایا کرتی تھی مولوی صاحب جب آتے تو بغیر حساب رقم ما ما کے حوالے کر دیتے تو وہ کسی کو کم دیتی اور ہر حساب میں ڈنڈی مارتی تھی وہ مولوی صاحب کے اعتماد کا خون کرتی رہتی جب تک کہ اس گھر میں تمیز دار بہو اصغری نہ آگئی .
اصغری چونکہ پڑھی لکھی سمجھداراور معاملہ فہم لڑکی تھی لہٰذا اس نے ما ما عظمت کے مشکوک اور بے اعتبار کردار کو جان لیا اور اسے بے نقاب کرنے لئے موقع کی تلاش میں رہتی مولوی صاحب نے جب رقم ما ما عظمت کے حوالے کرنا چاہی تو اصغری نے کہا کہ جتنے قرض خواہ ہیں انھیں روبرو بلا کر حساب کتاب سے رقم ادا کی جائے ما ما عظمت نے کئی بہابے تراشنے مگر اصغری نے دانشمندی سے ہر بہانے کا توڑ کیا اور ما ما کو سب قرض خواؤں کو بلانا ہی پڑا .سب سے پہلے حلوائی آیا اور قرض کے تیس روپے بتاے معلوم کرنے پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ دس سیر شکر شب برات پر اور چار سیر بالو شاہی مولود شریف کے واسطے جبکہ ان چیزوں کو نہیں منگایا گیا تھا ما ما عظمت بہت ستپتائی اصل قرض صرف چھ سات روپے نکلے اسی طرح سبزی فروش قصائی کے حساب میں بھی ما ما کی نیت کا فتور نکلا اب تمام گھر والوں کی آنکھیں کھل گئیں ما ما عظمت پر خوب لعنت ملامت برستی رہی اگلے روز بڑے قرض خواؤں کی باری آنی تھی مگر ما ما پہلی ہی رات کو بزاز اور ھزاری مل کے گھر گئی ان دونوں کو سونے کی چوڑیاں اور زیور دیے کہ حساب کے وقت نکال کر واجبی سا قرضہ بتایا جائے مگر مولوی صاحب کے ملازم نے اس کو دونوں کے گھر جاتے دیکھا اور چپکے سے مولوی صاحب کو بتایا اور پھر یہ خبر اصغری کو بھی مل گئ اگلے روز جب دونوں قرض خواہ مولوی صاحب ک مکان پہنچے اور حساب کتاب ہونے لگا تو ما ما عظمت بہت بڑھ چڑھ کر بول رہی تھی اس کی چرب زبانی دیکھ کر دونوں نے ما ما کا دیا ہوا زیور اس کی طرف پھینک دیا اور کھا اپنا سامان رکھ لو یہ ہماری اصل رقم سے کہیں کم قیمت کا ہے ایک ہی لمحے میں بڑھیا کی بولتی بند ہو گئ اور ان دونوں کے قرضے کے عیوض اس کو اپنا مکان دینا پڑا اس بے ایمانی اور مکاری کے نتجے میں اسے انتاہی بے آبرو ہو کر گھر سے نکلنا پڑا .
لالچ حرص و هوس اور مکاری کا انجام بالآخر بھیانک ہوتا ہے لہٰذا اس طرح کے غلیظ اور بری عادت سے دور رہا جائے اس کا دوسرا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ خواتین کو تعلیم یافتہ ہونا چاہیے تاکہ معاملات کو سمجھ سکیں کبھی کسی پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ نہیں کرنا چاہیے اور اپنی سمجھ اور زہن کو استمال کرنا چاہیےعربی زبان میں روزے کے لئے صوم کا لفظ استمال ہوتا ہے جس کے لغوی معنی ہیں " روکنا ".شریعت کی اصطلاح میں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے عبادت کی غرض سے روکنے کا نام روزہ ہے . الله تعالیٰ کا ارشاد ہے ترجمہ "اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے تم سے قبل لوگوں پر فرض کئے گئے شاید تم پرہیزگار بن جاؤ.حضور ﷺ کا ارشاد ہے ترجمہ "روزہ (دوزخ سے ) ڈھال ہے .
روزے کی چار اقسام ہیں .
١.فرض جیسے رمضان المبارک کے روزے
٢.واجب جیسے نذر یعنی منت کے روزے
٣. سنت جیسے یوم عاشورا اور ایام بیض (چاند کی ١٣/١٤/١٥ تاریخ ) کے روزے
٤. نفل جیسے ماہ شوال کے روزے
روزے کا اصل مقصد اور فلسفہ انسان کو گناہوں سے بچانا اور اس بات کی مشق کرانا ہے کہ انسان فطری طور پر گناہوں سے دور رہنے کا عادی ہو جائے صرف بھوکا پیاسا رکھنا مقصد نہیں . انسان کو دنیا میں بھیجا گیا تو کچھ چیزوں کو حلال رکھا گیا اور کچھ کو حرام ، حرام کاموں سے روکا گیا اور حلال امور انجام دینے کی اجازت دی گی لیکن رمضان میں حلال امور سے بھی روکا گیا تاکہ اس مشق اور پریکٹس کی بدولت رمضان کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں میں کم از کم حرام کاموں سے بچنے کی مشق ہو لہٰذا اگر کوئی شخص روزہ رکھ کر بھی گناہوں سے اور حرام کاموں سے نہیں بچتا تو اسے روزہ نہیں کہا جا سکتا ارشاد نبوی ﷺ ہے " جو شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹ پر عمل کرے تو خدا کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی حاجت نہیں ".
✅ دل کی صحت کے لیے غذا کا منصوبہ ناشتہ ہول ویٹ ڈبل روٹی/جو کا دلیہ اور تازہ پھل (کیلا، بیریز وغیرہ) کم چکنائی والا دودھ یا دہی ب...