Thursday, June 27, 2024

Success

 Success is a multifaceted concept, varying greatly from one individual to another. Fundamentally, it represents the achievement of goals, whether personal, professional, or social. Success is often measured by accomplishments, recognition, or the attainment of certain standards, but it is also deeply personal, tied to an individual's values and aspirations.

Key elements contributing to success include hard work, persistence, and resilience. Setting clear, realistic goals and maintaining a strong work ethic are crucial. Additionally, adaptability and continuous learning enable one to navigate challenges and seize opportunities. Support from a network of mentors, colleagues, and loved ones also plays a significant role.

However, success is not solely about material wealth or status. It encompasses fulfillment, happiness, and a sense of purpose. Ultimately, true success is achieving a balanced life where one can pursue passions, maintain meaningful relationships, and contribute positively to society.




Habits

 Habits play a crucial role in shaping our lives, influencing our health, productivity, and overall well-being. Positive habits such as regular exercise, healthy eating, and sufficient sleep enhance physical and mental health. Practicing mindfulness, setting daily goals, and maintaining a consistent routine boost productivity and reduce stress. Conversely, negative habits like procrastination, poor diet, and lack of exercise can lead to health issues and hinder personal growth. Cultivating good habits requires discipline and consistency but leads to long-term benefits. Adopting and maintaining positive habits can transform one's life, fostering success, happiness, and a balanced lifestyle.




Fitness

 Fitness is the condition of being physically fit and healthy, achieved through regular exercise, balanced nutrition, and adequate rest. It encompasses cardiovascular endurance, muscular strength, flexibility, and body composition. Maintaining fitness improves overall health, boosts energy levels, enhances mental well-being, and reduces the risk of chronic diseases. Regular activities such as walking, running, strength training, yoga, and swimming contribute to fitness. Setting realistic goals, staying consistent, and making fitness enjoyable are key to long-term success. Fitness isn't just about aesthetics; it's about fostering a healthier lifestyle and enhancing quality of life through physical activity and mindful choices.



Tuesday, June 25, 2024

اخلاق کی اہمیت

 اخلاق کسی بھی معاشرتی نظام کا بنیادی ستون ہیں۔ یہ انسانی کردار اور اعمال کی وہ خصوصیات ہیں جو معاشرتی روابط، تعاملات اور رویوں کو تشکیل دیتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں اخلاقیات کو خاص اہمیت دی گئی ہے اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اخلاقی معیار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

اخلاق کی اہمیت:

  1. انفرادی ترقی: اخلاقی صفات جیسے سچائی، ایمانداری، صبر، اور برداشت فرد کی شخصیت کو نکھارتی ہیں اور اسے ایک بہتر انسان بناتی ہیں۔
  2. معاشرتی ہم آہنگی: اچھے اخلاق معاشرت میں امن، بھائی چارہ اور تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ صفات معاشرتی مسائل کو کم کرتی ہیں اور لوگوں کے درمیان محبت اور احترام پیدا کرتی ہیں۔
  3. معاشرتی انصاف: اخلاقی اصول معاشرتی انصاف کے قیام میں مددگار ہوتے ہیں۔ یہ اصول انسانوں کے درمیان مساوات اور انصاف کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
  4. دینی تقاضے: اسلام میں اخلاقیات کو ایمان کا جز قرار دیا گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "میں اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں۔" (مسند احمد)

اخلاقی اصول:

  1. سچائی: سچ بولنا اور جھوٹ سے بچنا۔ قرآن مجید میں کہا گیا ہے، "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔" (سورہ توبہ: 119)
  2. ایمانداری: معاملات میں ایمانداری برتنا اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا۔
  3. احترام: بڑوں کا احترام اور چھوٹوں سے محبت کرنا۔
  4. عدل و انصاف: ہر حال میں انصاف کرنا، چاہے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
  5. صبر و برداشت: مشکلات اور آزمائشوں میں صبر کرنا اور دوسروں کی غلطیوں کو برداشت کرنا۔

اخلاقی تعلیمات:

اخلاقی تعلیمات کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے۔ اسلامی اخلاقیات ہمیں سکھاتی ہیں کہ کس طرح ایک بہترین انسان بننا ہے جو اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارے اور دوسروں کے لئے رحمت بنے۔

اخلاقی تعلیمات کے چند بنیادی اصول:

  • حسن سلوک: دوسروں کے ساتھ نرمی، محبت اور ہمدردی سے پیش آنا۔
  • عدالت: انصاف کے اصولوں کو ہر حال میں مدنظر رکھنا۔
  • حیا: شرم و حیا کے ساتھ زندگی گزارنا۔
  • ایثار: اپنی ضرورتوں پر دوسروں کی ضرورتوں کو ترجیح دینا۔
  • شکرگزاری: اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا اور لوگوں کا بھی شکر گزار ہونا۔

خلاصہ:

اخلاق کسی بھی فرد اور معاشرت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان کی پاسداری سے نہ صرف ایک شخص کی زندگی بہتر ہوتی ہے بلکہ پورا معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے اخلاقیات ایمان کا لازمی حصہ ہیں اور ان کی پابندی ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس بات کا عملی نمونہ ہے کہ کس طرح اخلاقیات کو اپنی زندگی میں اپنایا جا سکتا ہے۔



سکون حاصل کرنے کے طریقے

 سکون ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان ذہنی، جسمانی اور روحانی طور پر پرسکون اور مطمئن ہوتا ہے۔ یہ حالت انسانی زندگی میں نہایت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ ہمارے عمومی تندرستی اور خوشحالی کو بہتر بناتی ہے۔ آج کے تیز رفتار دور میں، جہاں ہر طرف شور و غل، کام کا دباؤ، اور مختلف مسائل کا سامنا ہے، سکون کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

سکون کے ذرائع

  1. طبیعت سے تعلق: قدرتی مناظر، درختوں، پہاڑوں، اور سمندر کے قریب وقت گزارنا ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔ قدرت کے ساتھ وقت گزارنے سے انسان کی روح کو تازگی ملتی ہے۔

  2. یوگا اور مراقبہ: یوگا اور مراقبہ سکون حاصل کرنے کے بہترین ذرائع ہیں۔ یہ ذہنی اور جسمانی تناؤ کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور انسان کو اندرونی سکون فراہم کرتے ہیں۔

  3. مطالعہ: کتابیں پڑھنا، خاص طور پر وہ جو دلچسپ اور معلوماتی ہوں، ذہنی سکون کا باعث بنتی ہیں۔ ادب، مذہبی کتابیں، اور سوانح حیات پڑھنا انسان کو ذہنی آرام فراہم کرتا ہے۔

  4. موسیقی: نرم اور میٹھی موسیقی سننا بھی سکون کا ذریعہ ہے۔ موسیقی نہ صرف ذہنی تناؤ کو کم کرتی ہے بلکہ انسان کے مزاج کو بھی خوشگوار بناتی ہے۔

  5. خود شناسی: اپنی ذات کی پہچان اور اپنے خیالات و جذبات کی بہتر سمجھ بوجھ انسان کو اندرونی سکون فراہم کرتی ہے۔ یہ خود شناسی مراقبہ اور یوگا کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔

سکون کے فوائد

  1. ذہنی صحت: سکون ذہنی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ یہ ڈپریشن، انزائٹی، اور دیگر ذہنی بیماریوں سے بچاتا ہے۔

  2. جسمانی صحت: سکون کی حالت میں جسمانی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔ یہ دل کی بیماریوں، بلڈ پریشر، اور دیگر جسمانی بیماریوں سے بچاؤ میں مددگار ہوتا ہے۔

  3. معاشرتی تعلقات: جب انسان سکون میں ہوتا ہے تو وہ اپنے تعلقات کو بہتر طور پر نبھا سکتا ہے۔ یہ خوشگوار اور مثبت تعلقات قائم کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔

  4. پیداواری صلاحیت: سکون کی حالت میں انسان کی پیداواری صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ وہ اپنے کام میں زیادہ توجہ اور بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔

سکون حاصل کرنے کے طریقے

  1. منظم زندگی: منظم زندگی گزارنا سکون حاصل کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ یہ منصوبہ بندی، وقت کی پابندی، اور نظم و ضبط پر مبنی ہوتی ہے۔

  2. مثبت سوچ: مثبت سوچ اور مثبت رویہ اپنانا بھی سکون حاصل کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ یہ منفی خیالات اور جذبات کو کم کرتا ہے۔

  3. سوشل سپورٹ: دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنا، ان سے بات چیت کرنا اور ان کی حمایت حاصل کرنا بھی سکون فراہم کرتا ہے۔

  4. آرام دہ ماحول: آرام دہ اور پرسکون ماحول میں رہنا بھی سکون حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ جسم اور دماغ کو آرام فراہم کرتا ہے۔

نتیجہ

سکون انسانی زندگی کا ایک اہم جزو ہے جو ذہنی، جسمانی اور روحانی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ سکون حاصل کرنے کے مختلف ذرائع اور طریقے ہیں جنہیں اپنا کر ہم اپنی زندگی کو بہتر اور خوشحال بنا سکتے ہیں۔ آج کے مصروف دور میں سکون حاصل کرنے کے لیے ہمیں اپنی زندگی کو منظم اور متوازن بنانا ہوگا تاکہ ہم اپنی صحت اور خوشی کو بہتر بنا سکیں۔



انسانیت

 انسانیت واقعی ایک عظیم اور اہم قدر ہے۔ اس کا مطلب ہے دوسروں کی بھلائی کے لیے سوچنا، ان کی مدد کرنا اور احترام کرنا۔ انسانیت میں محبت، ہمدردی، اخلاص، اور دوسروں کے ساتھ انصاف کرنا شامل ہے۔ جب ہم انسانیت کو اپنی زندگیوں میں اپناتے ہیں، تو ہم دنیا کو ایک بہتر جگہ بنا سکتے ہیں جہاں ہر شخص خوش اور مطمئن ہو۔

انسانیت کا پیغام دنیا کے ہر مذہب اور ثقافت میں موجود ہے۔ ہم سب کو چاہئے کہ ہم اس پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ اس سے نہ صرف ہم خود خوش رہیں گے بلکہ معاشرہ بھی پرسکون اور خوشحال ہوگا۔




Thursday, May 23, 2024

 A Symbol of Beauty and Emotions




                            The rose, with its delicate petals and enchanting fragrance, holds a special place in human culture and history. This timeless flower is not merely a botanical wonder but a symbol of beauty, love, and a myriad of emotions that transcend language and boundaries.

One of the most iconic flowers globally, the rose comes in a dazzling array of colors, each carrying its own significance. The velvety red rose, for instance, is synonymous with love and passion, while the pure white rose symbolizes innocence and purity. From the vibrant yellow rose representing friendship to the mysterious black rose signifying the unknown, each hue evokes a unique sentiment and emotion.

Beyond its aesthetic appeal, the rose has inspired poets, artists, and romantics for centuries. Its mystique and allure have been immortalized in literature, art, and music, serving as a timeless muse for creative expression. Whether depicted in a Shakespearean sonnet or captured in a delicate watercolor painting, the rose continues to captivate hearts and minds with its timeless beauty.

In addition to its symbolic meanings, the rose also boasts a rich history of medicinal and culinary uses. Rose petals are infused in teas and used in aromatherapy for their calming properties, while rose water is a popular ingredient in cooking and skincare products. This versatile flower not only pleases the senses but also offers various health and wellness benefits.

Furthermore, the cultivation of roses has evolved into a dedicated art form, with enthusiasts worldwide tending to vibrant rose gardens and participating in competitions to showcase the most exquisite blooms. The care and attention required to nurture these flowers reflect the deep admiration and reverence that people hold for the rose.

In conclusion, the rose stands as a timeless emblem of beauty, love, and human emotions. Its captivating presence in art, literature, and daily life serves as a reminder of the profound impact nature can have on our hearts and souls. As we continue to cherish and celebrate the rose in all its splendor, we honor not only its physical attributes but also the intangible qualities that make it a symbol of enduring grace and elegance in a world filled with fleeting beauty.

Wednesday, May 22, 2024

The Importance of Being Social: Making Friends and Connections

Social relations are all about how we get along with others. It's like making friends, talking to family, or working with people. These connections are super important because they help us feel happy, safe, and like we belong.

In today's world, we have cool things like social media to chat with friends far away. But sometimes, it can be tricky to keep real friendships with all the online stuff around us.

Even with all this technology, the basic idea of social relations stays the same. It's about laughing with friends, helping each other out when we're down, and having good talks that make us think.

Social relations also help us work together and make things better. By sharing ideas and working as a team, we can solve problems, create new stuff, and make our communities stronger.

To sum it up, social relations are like the glue that holds our society together. They help us share our feelings, experiences, and dreams with others. By valuing these connections, we can build a kinder, more connected world where everyone feels like they belong.


Wednesday, July 13, 2022

خود شناسی/self -efficacy


 

self -efficacy/خود شناسی  

تحریر۔ کرن احمد( اٹک )

self -efficacy بھی کہتے ہیں ۔ (seif -efficacy basically
 someone believes it he or she has ability to do that particular taste ) خود شناسی کو خود احتسابی بھی کہا جا سکتا ہے ۔کسی بھی انسان کی اپنی قابلیت پر ایمان کی حد تک جو یقین کی کیفیت ہے جو انسان کی اپنی ذات پر ایمان،اعتماد اور یقین ہے اسکو خود شناسی کہہ سکتے ہیں ۔ حدیث مبارکہ ہے کہ: "جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا پس تحقیق اس نے اپنے رب کو پہچان لیا ۔" ایک اور جگہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اے اللہ مجھے اشیا کی ہیت نہیں ان کی فطرت کا علم عطا فرما۔" خود شناسی ہی آپ کو اللّٰہ تبارک و تعالیٰ اور کائنات کی ہر چیز سے شناسا کرتی ہے ۔اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کو لگن اور محنت سے کامیابی تک لانا بھی خود شناسی کی ایک صورت ہے ۔خود شناسی دو طرح کی ہوتی ہے ۔ 1) خود شناسی خود پر کامل یقین کا ہونا ۔اس کی مثال ایک شخص خود کو کامیاب کرنے اور کوئی مقام پانے کے لیے جستجو کرتا ہے اور آخر کار اس کی مستقل لگن اور محنت سے وہ یہ مقام حاصل کر لیتا ہے ۔ 2) خود شناسی کی کمی یا ہار جانے کا ڈر انسان کو محنت اور آگے بڑھنے سے روک دیتا ہے اور کوشش کرنے سے پہلے ہی وہ یہ سمجھ کر خود کو ناکام کر لیتا ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا اور اس کا خود کی ناکامی پر کامل یقین آخر کار اسے ناکامی سے دوچار کر دیتا ہے ۔اگر مجھے یہ یقین ہے کہ میں کر سکتی ہوں تو یقیناً میں کرلوں گی۔ اور اگر شروع میں میرے پاس مشکلات بہت بھی ہوں لیکن میرا ارادہ ، پختہ یقین اور میرا اپنا آپ مجھے اس مقام تک ضرور لے آئے گا جہاں میں جانا چاہتی ہوں ۔تمام معاملات میں خود شناسی کا ہونا بہت ضروری ہے ۔چاہیے آپ پڑھتے یا پڑھاتے ہوں یا اس کے علاؤہ آپ کا تعلق کسی اور شعبے سے ہو آپ کی مستقل مزاجی اور آپ کے مضبوط ارادے ہی خود شناسی ہے ۔ خود شناسی کو جاننے کے چار آسان طریقے ہیں ۔ 1)سب سے پہلے آپ اس بات کو تسلیم کریں کہ ہر شخص اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ جیسے فنگر پرنٹ ،آواز ،شکل وصورت اور قد وغیرہ ۔اس کے علاؤہ قابلیت اور ذہانت بھی ۔یہاں پر آپ ان تمام چیزوں کو قبول کر چکے ہیں تو آپ لوگوں کی نقل کرنا چھوڑ دیں گے ۔ 2)اپنی خوبیوں اور خامیوں کو جانے۔کوئی بھی شخص اپنی ذات میں مکمل کبھی نہیں ہوتا ۔جب آپ اپنے اندر ان باتوں کو جان لیتے ہیں تو آپ کے لئے آگے بڑھنا آسان ہو جاتا ہے ۔اپنی خوبیوں کو لے کر آگے محنت کریں اور اپنی خامیوں کو قبول کریں اور بہترین عمل تو یہ ہے کہ آپ اپنی کمزوریوں کو اپنی طاقت بنائیں ۔ 3)اپنے اندر کی کیفیات سے آگاہ ہونا۔حسد ،غصہ ،مایوسی آپ کے اندر ان باتوں کی کیا وجہ ہے یہ جاننا بہت ضروری ہے ۔کون سی ایسی باتیں ہیں جو کہ آپ کے جذبات کو تحریک دیتں ہیں اور آپ کے اندر حد سے زیادہ کسی بھی جذبے کو اجاگر کرتیں ہیں ۔ان پر کنٹرول پانا بہت ضروری ہے ۔ 4)اپنے اصولوں کا تعین کرنا ۔آپ کو اپنے قول و قرار میں پختہ ہونا چاہیے ۔آپ ہمیشہ وہ بولیں جو آپ کر سکتے ہیں اور ایسی باتوں سے گریز کریں جن پر آپ قائم نہیں رہ سکتے ۔ خود شناسی کو بڑھانے کے لئے شاباش معاون ثابت ہو سکتی ہے ۔لیکن غصہ ،طنز،حسد آپ کی خود شناسی میں کمی کا سکتی ہے ۔آپ کو اپنے اندر کی طاقت ،شخصیت ،اقرار ،عادات ، احساسات اور کمزوریوں کو جاننا بھی بےحد ضروری ہے ۔خود سے آگاہی رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ وہ کیا ہیں اور کیا کرنا چاہتے ہیں اور آگے انھوں نے کیا کرنا ہے ۔خود شناسی کو جانے ۔آپ جتنا اپنے آپ کو جانتے ہیں اتنا کوئی بھی آپ کو نہیں جان سکتا ۔

Also called self-efficacy. (seif-efficacy basically
  (someone believes it he or she has ability to do that particular taste) Self-awareness can also be called self-accountability. It is the extent of faith in one's own ability, which is the state of belief, which is faith, trust in one's own self. And surely you can call it self-realization. There is a blessed hadith that says: "He who knows his own self after research has known his Lord." In another place, Prophet Muhammad (peace and blessings of Allah be upon him) said: "O Allah, grant me the knowledge of the nature of things, not the will of them." Self-knowledge makes you familiar with Allah Almighty and everything in the universe. Bringing your shortcomings and shortcomings to success with dedication and hard work is also a form of self-knowledge. There are two types of self-knowledge. 1) Self-awareness Having complete faith in oneself. An example of this is a person who strives to succeed and find a position and finally with his constant dedication and hard work, he achieves this position. 2) Lack of self-awareness or fear of failure stops a person from working hard and moving forward and before even trying, he fails himself by thinking that he cannot do anything and his own failure. Perfect belief eventually leads to failure. If I believe I can do it, I will. And even if I have a lot of difficulties in the beginning, but my will, strong belief and my own self will surely bring me to the place where I want to go. Self-awareness is very important in all matters. Whether you study or teach. Whether or not you belong to any other field, your consistency and your strong intentions are self-realization. There are four simple ways to know Self-realization. 1) First of all you should recognize that each person has his own identity. Like fingerprint, voice, appearance and height etc. In addition to this ability and intelligence too. Here you have accepted all these things then you will stop imitating people. 2) Know your strengths and weaknesses. No one is ever perfect in himself. When you know these things within yourself, it becomes easier for you to move forward. Take your strengths and work hard. Accept your flaws and the best course of action is to make your weaknesses your strengths. 3) To be aware of the conditions inside you. It is very important to know what is the reason for these things inside you. Most of them highlight any emotion. It is very important to get control over them. 4) Determining your principles. You should be firm in your words and decisions. You should always say what you can do and avoid things that you cannot stick to. Shabash can help to increase self-awareness. But anger, sarcasm, jealousy can reduce your self-awareness. It is also very important to know your inner strength, personality, confession, habits, feelings and weaknesses. Self-aware people know who they are and what they want to do and what they need to do next. Know Self-Awareness. No one can know you as well as you know yourself.

Tuesday, July 5, 2022

قربانی کا مقصد

 

قربانی

تحریر۔ کرن احمد (اٹک)

 قصہ کچھ عجیب ہے کہ ایک شخص کو دعا مانگتے ساٹھ سال کا عرصہ بیت جاتا ہے
دعا کی جاتی ہے کہ اے میرے پیارے رب مجھے نیک اور صالحہ اولاد عطا کی جائے ۔اور دعا کی قبولیت ہوتی ہے چوراسی سال کی عمر میں۔شدت سے مانگی گئی بڑھاپے کی محبوب اولاد ۔اور پھر حکم ربی ہوتا کہ اے میرے نبی اسے میری راہ میں قربان کر دو ۔ایک طرف محبوب رب کی آزمائش اور دوسری طرف وہ اولاد جسے مانگتے ہوئے زبان کپکپانے لگی۔بحکم خداوند ی کو پورا کرنے کے لئے حضرت ابرہیم علیہ السلام نے فلسطین سے مکہ تک کا گھٹن اور مشکل سفر طے کیا۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کو منی کی وادی میں لائے ۔اور بیٹے کو کہا کہ آپ کو اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کی راہ میں قربان کرنا ہے ۔اور بیٹا یہ جواب دیتا ہے کہ جو آپ کے رب کی رضاھے وہ ہی میری رضا۔دونوں کے دل میں اپنے حقیقی مالک کے لئے تڑپ اور عشق تھا جسکا ثبوت وہ اپنے عمل سے دینے جا رہے تھے ۔حضرت ابرہیم علیہ السلام نے چھری بیٹے کی گردن پر رکھی اور تاریخی الفاظ کہے جن کی گردش آج بھی ہوا کی لہروں میں سرایت کرتی محسوس ہوتی ہے ۔حضرت ابرہیم علیہ السلام نے نگاہ آسمان کی جانب اٹھائی اور فرمایا اے میرے رب بیشک تیری آزمائش کڑی ہے لیکن یہ مت سمجھنا کہ اسماعیل کی محبت تیری محبت پر غالب آ گئی ہے۔ میرے رب مجھ سے راضی رہنا یہ کہتےساتھ ہی چھری چلا دی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اللّٰہ پاک نے چھترا بھیج دیا اور یوں چھترے کی قربانی ہو گئی۔یہاں حضرت ابرہیم علیہ السلام امتحان میں کامیاب ہو گئے اور اپنے عمل سے سے ثابت کر دیا کہ محبوب کی آزمائش ہمیشہ سخت ہوا کرتی ہے ۔قربانی عربی زبان کے لفظ قربان سے نکلا ہے ۔قربان کہتے ہیں ہر وہ عمل جو اللّٰہ تبارک و تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے کیا جائے ۔ویسے تو ساری عبادات اللّہ پاک کی رضا اور خوشنودی کے لئے کی جاتی ہیں لیکن اس عبادت میں انسان کی عقل حکمت اور مصلحت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔قربانی دس گیارہ اور بارہ ذالحجہ کو ہی کی جا سکتی ہے ۔اس کے بعد اگر کوئی قربانی کرے گا تو وہ بھی صدقات میں شامل ہو گی اسے قربانی نہیں کہا جا سکتا ۔ہر سال لوگ اپنی استطاعت کے مطابق مختلف جانور ذبح کرکے سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے ہیں ۔قربانی کے جانوروں میں اونٹ، گائے، بیل،بکرا،بکری ،چھترا اور دنبہ وغیرہ شامل ہیں ۔واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں قربانی کے جانور کی قربانی درست ہونے کے لئے ان کے لئے ایک خاص عمر تعین ہے۔ یعنی بکرا ،بکری کی عمر ایک سال ہو ۔اونٹ کی عمر پانچ سال ہو ۔گائے ،بیل اور بھینس کی عمر دو سال ہو ۔البتہ دنبہ یا بھیڑ ایک سال سے کم ہو اور اتنا فربہ ہو کہ دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے ۔تمام جانوروں کی عمریں اس سے کم نہ ہوں ورنہ قربانی جائز نہیں ۔زیادہ عمر ہوتو بہتر ہے ۔قربانی کا عمل اتنا زبردست ہے کہ جو کرے وہ ہی پائے ۔قربانی کی ایک فضیلت تو یہ ہے کہ جیسے ہی قربانی کے جانور کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرے گا اللّٰہ پاک قربانی کرنے والے شخص کی بخشش فرما دے گا۔افضل عمل ہے کہ جس نے قربانی کی نیت کی ہو ذالحجہ کا چاند نظر آنے سے لے کر قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ تراشے ۔بلکہ قربانی ہونے کے بعد کاٹے جائیں تاکہ ان بالوں اور ناخنوں کی بخشش ہو سکے ۔اگر کوئی شخص قربانی کی استطاعت نہیں رکھتا تو وہ یہ عمل کرے تو اسے قائم مقام قربانی کا اجر ملے گا۔یہاں پر امیر غریب دونوں کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے ۔بہتر تو یہ ہے کہ قربانی کرنے والا شخص جانور کی قربانی ہوتے وقت اسکے پاس موجود ہو ۔اگر نہیں بھی ہوتا تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔لیکن سامنے کے اجر اور بخششِ کا معاملہ ہی کچھ اور ہے ۔قربانی کے لئے جانور صحت مند ہونا چاہیے اور اعضاء کا پورا ہونا بھی ضروری ہے ۔کہا یہ جاتا ہے کہ اگر قربانی کے جانور کے کان چاول کے دانے کے برابر کٹا ہوا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ۔جانور بے عیب ہونا ضروری ہے ۔قربانی کے جانور کے جسم پر جتنے بال ہوں گے ہر بال کے بدلے ایک نیکی عطا کی جائے گی ۔ حدیث میں ہے کہ کھاؤ بھی اور جمع بھی کر کے رکھو ۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ قربانی کا سارا گوشت خود رکھ لیا جائے ۔ غریبوں ، مسکینوں اور یتیموں کو بالکل نہ دیا جائے ۔اس سے قربانی کا اصل مقصد پورا نہیں ہوتا ۔قربانی کا گوشت کوئی عام گوشت نہیں بلکہ خاص الخاص ہے ۔دنیا میں جتنی بھی کھانے کی اشیاء ہیں قربانی کا گوشت سب سے اعلیٰ غذا ہے ۔

Saturday, May 14, 2022

The role of science in social development





                        The role of science in social development Man has stepped forward every moment and tried to know the nature and reality of the universe and things. The place he is today could not have been imagined centuries ago. Man who lives in caves today lives in great buildings and invents new ways to decorate them. Seventy-leaf-covering today makes thousands of designs of fabrics, silk, cotton, ryen, etc., and then invents new fashions in these cuts. The simple eater today prepares all kinds of food so that he has made the purpose of his life a search for the best and this search continues every moment, every moment. Man never stays in one place but every hour. The search for new destinations, the search for the horizon is his ambitious vision, his knowledge distinguishes him from other creatures of the world, and on the basis of this knowledge he is entitled to be called the noblest of creatures. The branch of science through which he seeks to know the hidden mysteries and secrets of the universe and with the help of this acquaintance he creates many things which will make his life more comfortable and convenient.

معاشرتی ترقی میں سائنس کا حصّہ انسان نے ہر لمحہ آگے کی طرف قدم بڑھایا ہے اس کائنات اور اشیا کی ماہیت اور حقیقت جاننے کی کوسشس کی ہے آج وہ جس مقام پر ہے صدیوں پہلے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا غاروں میں زندگی بسر کرنے والا انسان آج عظیم عمارات میں رہتا ہے اور ان کی تزئین و آرائش کے لئے نت نیے طریقے ایجاد کرتا ہے پتوں سے ستر پوشی کرنے والا آج ہزاروں ڈیزائن کے کپڑے بناتا ہے ریشمی سوتی ریان وغیرہ اور پھر ان تراش خراش میں بھی نت نیے فیشن ایجاد کرتا ہے سیدھی سادی خوراک کھانے والا آج انواع و اقسام کے کھانے تییار کرتا ہے غرض کے اس نے اپنی زندگی کا مقصد خوب سے خوب تر کی تلاش بنا لیا اور یہ تلاش ہر لمحہ ہر آن جاری رہتی ہے انسان کبھی ایک مقام پر نہیں ٹھہرتا بلکہ ہر گھڑی سر گرم سفر رہتا ہے نئی منزلوں کی تلاش نیے افق کی جستجو اس کا مطمع نظر ہے اس کا علم اسے دنیا کی دوسری مخلوق سے ممتاز کر تا ہے اور اسی علم کے سہارے وہ اشرفلمخلوقات کہلانے کا حق دار بھی ٹھہرتا ہے اس کے علم کی ایک شاخ سائنس ہے جس کے زریعے وہ کائنات کے پوشیدہ اسرار و رموز جاننے کی کوشش کرتا ہے اور اس واقفیت کے سہارے بہت سی ایسی چیزیں تخلیق کرتا ہے جو اس کی زندگی کو زیادہ پر سکوں پر آسائش اور سہل بنا د





دل کی صحت کے لیے غذا کا منصوبہ

  ✅ دل کی صحت کے لیے غذا کا منصوبہ ناشتہ ہول ویٹ ڈبل روٹی/جو کا دلیہ اور تازہ پھل (کیلا، بیریز وغیرہ) کم چکنائی والا دودھ یا دہی ب...